سردار آفتاب،،،صاحب کردار لیڈر۔۔۔۔۔۔تحریر: صابر گل

سردار آفتاب،،،صاحب کردار لیڈر۔۔۔۔۔۔تحریر: صابر گل

 

آفتاب صاحب ابھی جےکے ایل ایف میں شامل نہیں ہوئے تھے تب سے میرے کزنز جو این ایس ایف میں سرگرم تھے ان سے نام سنا تھا۔ پھر 1993 میں آفتاب صاحب، سردار صغیر صاحب نے اپنے دیگر این ایس ایف کے راہنماؤں سمیت جے کے ایل یف جوائن کی۔ ہم چونکہ پہلے سے ایس ایل ایف میں سرگرم تھے اور بالخصوص پونچھ اور راولپنڈی/ اسلام آباد میں مشترکہ پارٹی سرگرمیوں کیوجہ سے آفتاب صاحب کے شخصی ٹھہراؤ، دھیمے لہجے پارٹی معاملات پر گہری نظراور ریاست بھر کے لوگوں کے تضادات کو کم سے کم کر کے جوڑنے کی جستجو نے مجھے ان کا خاصا گرویدہ کر لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا تعلق کسی بھی فرد سے علاقوں، قبیلوں،  اور سوشل اسٹیٹس سے ہٹ کر خالصتا انسانی بنیادوں پر ہوتا۔ سردار آفتاب ہر شخص کا احترام کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ نوجوانوں اور بزرگوں میں وہ یکساں مقبول تھے ان کا تعلق دینی، سیاسی، سماجی حلقوں میں موجود تھا۔ یہ سردار آفتاب کی شخصیت کا ہی خاصا تھا کہ لیفٹ اور رائٹ اپروچ کے لوگوں کے وہ مشترکہ دوست تھے۔ اور ہر شخص یہی سمجھتا تھا کہ اس کا تعلق سردار آفتاب سے بہت گہرا ہے۔ ان خاصیتوں کے مالک شخص سے میں بہت متاثر ہوا۔ ایس ایل ایف کی زمہ داریوں کے دوران سردار آفتاب نے ریاستی اکائیوں کو جوڑنے کیلے عملی مظاہرہ کا آغاز گلگت بلتستان میں تنظیم سازی سے کیا۔ جس کیلے نامساعد حالات کے باوجود گلگت بلتستان میں ضیاالحق صاحب اور عابد گلگتی صاحب کے زریعے تنظیمی شاخ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس مہم میں ہم نے بھی حصہ لیا۔ اور اس کے بعد مسلسل تنظیمی سرگرمیاں بحثیت زونل صدر جاری رکھیں۔سردار آفتاب تنظیم کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے اور الیکشن پراسیس میں لے جانے کے خواہشمند تھے۔ ان کی بڑی واضع اپروچ تھی کہ جب تک لوگوں کے مسائل کو ایڈریس نہیں کیا جاتا تب تک لوگوں کا انقلابی تحریکوں میں حصہ کل وقتی کے بجائے جز وقتی ہو گا۔ اور مسائل کے حل کے ساتھ  ساتھ قومی ایشوز کے حل کیلئے جدوجہد کی جائے۔

سردار آفتاب  آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون کے خاتمے پر تنظیمی فیصلہ سے نالاں بھی رہے لیکن کسی طرح کا گروپ تشکیل دینے کی اپنے ساتھیوں میں ہمیشہ مخالفت کی۔ کہ ہم اگر بکھرے لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ لوگوں کو جوڑنا ہے۔ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑنے کی تلقین اور خود ایک الگ ڈیرھ اینٹ کی مسجد!  اپنے ہی موقف کی نفی ہے یعنی مکمل قول و فعل میں تضاد۔کسی طرح کا گروپ بنا کر ہم اپنے ہی موقف کی نفی کریں گے۔ کسی بھی طرح کی توڑ پھوڑ کے بجائے خاموشی بہتر ہے تحریکی اور نظریاتی کام آپ اپنی استطاعت کے مطابق موافق حالات میں کرتے ہیں۔ ہم نے کونسا ٹینڈر بھرا ہوا ہے!!

۔ اس وجہ سے خاصا عر صہ خاموش بھی رہے۔ لیکن انکا سارا حلقہ احباب گواہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ تنظیم اور قائدین کے احترام کا ایک معیار رکھا تھا۔ وہ کبھی بھی کسی پر زاتی نوعیت کی نہ خود بات کرتے نہ کرنے دیتے البتہ قومی ایشوز پر اپنا نقطہ نظر بے لاگ رکھتے ۔  میں نے امان صاحب اور یسین ملک صاحب کے متلعق کبھی زاتی نوعیت کی تنقید کرتے نہیں سنا۔ البتہ تنظیمی حکمت عملی کو قائدین کے سامنے زیادہ تنقید برائے تعمیر کے سانچے سے نکالتے۔ اور بے لاگ تبصرہ کرتے یہی وجہ ہے کہ جب وہ غیر فعال تھے آمان صاحب اور یسین صاحب نے الگ سے کہیں بار آفتاب صاحب سے سرگرم ہونے کیلئے کہا۔ بلکہ یسین صاحب نے یہ کہا کہ شائد ہی میں نے زندگی میں اتنا کسی کو کہا ہو جتنا آفتاب صاحب کو سرگرم ہونے کیلے کہا ہے۔ جب آمان صاحب اور یسین ملک صاحب کا اتحاد ہوا تو دونوں نے آفتاب صاحب سے مشترکہ اور انفرادی میٹنگز کی۔ بلکہ آمان صاحب نے میری زمہ داری لگائی کہ آپ آفتاب صاحب سے بات کریں اور ہفتہ دس دن میں جواب دو لیکن کسی وجہ سے اس ہفتے بات نہیں کر سکا آمان صاحب نے پھر فون کیا کہ کیا بات ہوئی۔ میں نے معذرت کی کہ بات نہیں ہوسکی۔ انھوں نے کہا بات کو سریس لو۔ میں نے آپ کی زمہ داری لگائی تھی۔  یہ غالباََ 2013 کی بات ہے۔ میں نے آفتاب صاحب سے بات کی اور آگے ایک عظیم شخص کا زاتی کردار کھل کر سامنے آگیا  سردار آفتاب صاحب نے کہا” کہ آمان صاحب نے رابطہ کیا تھا لیکن صابر صاحب۔ میں تاریخ میں موقعہ پرست نہیں کہلوانا چاہتا۔ لوگ یہی کہیں گے سردار صغیر صاحب نکلے اور جگہ لینے آفتاب ایکٹو ہو گیا۔ آپ سارے دوست کام کر رہے میں آپ سب کے ساتھ ہوں۔ ابھی میری زات کیلے یہ مناسب وقت نہیں” میں خود وقتی طور پر مایوس ہوا اور یہی جواب آمان صاحب کو بتایا۔ لیکن وقتی مایوسی کے بعد جب تھوڑا سوچا تو یہ شخص روشنی کا مینار نظر آیا۔ میں سوچنے لگا۔ تحریکی سیاست اگر ایسے درویشوں کے ہاتھ میں ہو تو ان کا زاتی کردار ہی تحریکی اور نظریاتی میدان میں مارکیٹنگ ٹول ہو سکتا ہے جیسے آمان اللہ خان اور یسین ملک کے بدترین دشمن بھی ان کے زاتی کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ سیاست کے بدنام حوالے یعنی چالاکی، جھوٹ اور موقعہ شناسی نہیں بلکہ مثبت زاتی کردار، سچ کا ساتھ ، لالچ سے بے غرض اعلیٰ و ارفع اوصاف ہوں۔ تو پھر عام آدمی گواہی کیوں نہ دے اور ایسے اشخاص کی رحلت پر لوگ دھاڑے مار کر کیوں نہ روئیں۔

 

سردار آفتاب بہادری کی علامت تھے۔ Leading from the front  لکھنے میں چند الفاط لیکن عملی جامعہ پہنانا۔ اور وہ بھی مشکل وقت میں یہ صرف انھی کا خاصا تھا۔ راولپنڈی پریس کلب میں ہمارا زونل کنونش چل رہا تھا۔ جس میں سردار آفتاب زونل صدر اور مسعودالرحمان زونل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ ابھی کنونش جاری ہی تھا کہ شبیر صدیقی صاحب سمیت دیگر کئی افراد کو درگاہ حضرت بل کے باہر گن پاؤڈر چھڑک کر  درگاہ کو آگ لگائی گئی اور عظیم شبیر صدیقی نے اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کر لی۔اجتماع کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوا۔ اور بہترین حکمت عملی کی وجہ سے ہم انڈین ایمبیسی کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ سردار آفتاب وہاں بھی ایس ایل ایف کے نوجوانوں کو منظم کرتے اور بہترین حکمت ساز کے طور پر کھڑے رہے۔ ایس پی نے ڈنڈے برسائے لیکن وہ کھڑا رہا۔ ایس پی کو شائد یہ گھمان تھا کہ یہ بھی بھاگے گا۔ لیکن وہ کھڑا رہا۔ بالاخر ا آفتاب صاحب کو وہی چھوڑ کر اس نے باقی لوگوں کو ڈنڈے برسانا شروع کر دیئے۔ اس نے اسی پر اتفاق کیا کہ یہ تو بھاگنے والا نہیں!!

چار اکتوبر 1999 کو لبریشن فرنٹ نے  مدار پور پونچھ سے سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کیا۔ قائد تحریک امان اللہ خان کچھ دن پہلے ہی راولاکوٹ پہنچ گیئے۔ سردار صغیر ، سردار آفتاب ۔ ڈاکٹر صغیر۔مہتاب ایڈووکیٹ اور عبدالحمید صاحب کی بہتر حکمت عملی کیوجہ سے آمان صاحب کو راولاکوٹ  سے انتطامیہ گرفتار کرنے میں تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام رہی۔ اور چار اکتوبر دوتھان کے مقام پر سردار آفتاب اور دیگر قائدین کی حکمت عملی کیوجہ سے پگڈنڈی راستوں کے زریعے ہجیرہ تک پہنچایا گیا۔سردار آفتاب نے وہاں بھی پنجاب کانسٹیبلری کو انگیج کرنے کیلے خود اگے بڑھے۔ انگیج کا مطلب مذاکرات نہیں جھڑپ۔ تاکہ قافلے کو پگڈنڈی راستے پر لگایا جائے۔اور کہا۔ پنجاب کانسٹیبلری کو کیا پتا ان پہاڑوں کا۔ مجھے تھوراڑ، علی سوجل اور راولاکوٹ شہر سے نوجوانوں کی ٹیم ترتیب دینے کا کہا چونکہ میں اس وقت ایس ایل ایف کا سیکرٹری جنرل تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے کہا آفتاب صاحب آپ سے تعلق بہت مہنگا پڑ رہا ہے جب بھی مار کھانی ہوتی ہے آپ خود آگے ہو کر ہماری بھی پٹائی کرواتے ہیں۔ واقعی آفتاب صاحب آپ پر یہ بات سچ ہے آپ ہمیشہ "لیڈنگ فرام دی فرنٹ ” کا کردار ادا کرتے رہے۔

تبھی تو آپ کا جنازہ دنیا نے دیکھا کہ ہر آنکھ اشک بار، سیاسی، سماجی، دینی، تدریسی شعبوں سے منسلک لوگ بلاتخصیص جماعتی وابستگی کے آپ کیلے بدست دعا تھے۔اور ہر انکھ اشک بار تھی۔ آفتاب صاحب آپ سے وعدہ ہے کہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ اور مثبت زاتی کردار ہی تنظیم، تحریک اور نظریئے کیلے سود مند ثابت ہو سکتا ہے اور جھوٹ، دھوکہ، فریب، موقع پرستی اور شخصیت پرستی جیسی بیماریوں سے دور رہنے کی کوشش ہوگی۔ آپ کا کردار میرےلیے بالخصوص اور کشمیری نوجوانوں کیلے بالعموم مشعل راہ ہے ۔

 

موت تو وہی اچھی جسکا زمانہ کرے افسوس۔

یوں تو سبھی آتے ہیں مرنے کیلے!

 

صابر گل۔

چیف آرگنائزر جے کے ایل ایف۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept