قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سینیٹ کی 30 نشستوں کیلئےووٹنگ جاری

 قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سینیٹ کی 30 نشستوں کیلئےووٹنگ جاری

 

سینیٹ کی 30 نشستوں کے لیے 59 امیدوار مد مقابل ہیں جبکہ 18 سینیٹرز بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی سے تمام 11 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

سینیٹ کی 30 خالی نشستوں کے لیے آج قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سینیٹر کا انتخاب 6 برس کے لیے کیا جائے گا۔ ووٹنگ صبح 9 بجے سے شروع ہو کر شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔
اسلام آباد سے جنرل اور ٹیکنوکریٹ نشست پر دو، دو امیدوار مد مقابل ہیں۔ اسلام آباد کی ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک جنرل نشست پر 4 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

اسلام آباد کی ٹیکنوکریٹ نشست پر مسلم لیگ نون کے امیدوار اسحاق ڈار کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار راجہ انصر محمود سے ہوگا۔ اسلام آباد کی ایک جنرل نشست پر 2 امیدوار مدمقابل ہیں۔پیپلزپارٹی کی جانب سے رانا محمود الحسن ،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے فرزند علی شاہ امیدوار ہیں۔

پنجاب اسمبلی سے 7 جنرل نشستوں پر بھی امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔پنجاب سے خواتین کی نشستوں پر 4، ٹیکنوکریٹ اور علماء کی نشست پر 3 امیدوار ہیں۔ اقلیتی نشست پر2 امیدوار میدان میں ہیں۔

سندھ سے جنرل نشستوں پر 11 اور خواتین نشست پر 3 امیدوار ہیں۔ سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر 4 اور اقلیتی نشست پر 2 امیدوار ہیں۔ خیبر پختونخوا سے جنرل نشستوں پر 16، خواتین نشست پر 4 امیدوار ہیں۔ کے پی سے علماء اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر 6 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

سینیٹ انتخابات کے لیے 4 مختلف رنگوں میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔جنرل نشستوں کے لیے سفید پیپرز، ٹیکنوکریٹ نشستوں کے لیے سبز بیلٹ پیپر ہیں۔ خواتین کی نشستوں کے لیے گلابی اور اقلیتی نشستوں پیلے رنگ کے بیلٹ پیپرز استعمال ہوں گے

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept