مودی والدہ کے خلاف ایف آئی آر کرانے تھانے پہنچ گیا

مودی والدہ کے خلاف ایف آئی آر کرانے تھانے پہنچ گیا

بھارت اس وقت عجیب و غریب واقعات کیوجہ سے عالمی میڈیا کی توجہ میں ہے ،
جس میں سے بہت سے اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ ہر کوئی دنگ رہ جاتا ہے ، ایسا ہی ایک واقعہ معروف بزنس فرم ’گاڈ فرے فلپس ‘‘ کے مالکان کے درمیان پیش آیا ہے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق معروف کمپنی گاڈفرے فلپس کے ایگیکٹو ڈائریکٹر سمیر مودی کی جانب سے والدہ کیخلاف پولیس سے رابطہ کیا گیا ہے،سمیر مودی کی جانب سے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ والدہ نے میرے قتل کے لیے انتطامات کرائے ہیں،ذرائع کے مطابق ماں بیٹے کے درمیان کے کے مودی کی 11 ہزار کروڑ روپے کی جائیداد کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

جمعہ کے روز بیٹے کی جانب سے دلی پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ والدہ کے پرسنل سیکیورٹی افسر اور گاڈفرے فلپس کے دیگر ڈائریکٹرز کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،یہ تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا گیا جب انہوں نے دلی کے جیسولہ آفس میں ہونے والی بورڈ میٹنگ میں شرکت کی کوشش کی۔

اکنامکس ٹائمز سے بات چیت میں مودی کا کہنا تھا کہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا تھا، جب میں نے گاڈفرے فلپس کی بورڈ میٹنگ میں شرکت کی کوشش کی لیکن مجھے میری والدہ بینا مودی کے پی ایس او کی جانب سے داخل نہیں ہونے دیا،جب میں نے اصرار کیا تو پی ایس او کی جانب سے مجھے دھکے دیے گئے اور مجھے کہا گیا کہ تمہیں اجازت نہیں ہے،جبکہ مودی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے کے دوران ان کی انگلی بھی زخمی ہوگئی تھی، مودی نے دلی کے ساریتا ویہات پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرائی تھی،جبکہ گاڈ فرے فلپس کی جانب سے تما م الزامات کو رد کر دیا گیا ہے، جبکہ ساتھ ہی کمپنی کا کہنا تھا کہ واقعہ اندرونی کیمروں نے ریکارڈ کیا ہے، جس میں سچ سامنے آ جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept