پاکستان ،تاجکستان، تاریخی، سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات

پاکستان ،تاجکستان، تاریخی، سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات

تحریر :محمد صدیق انظر

پاکستان  اورتاجکستان  ایک حساس محل وقوع پر واقع اہم ممالک ہیں، جیو پولیٹیکل حساسیت اور خطے میں معدنی وسائل اور ہمسایہ ملکوں میں قریبی تعلقات قدرت کا بڑا عطیہ ہیں، امن واستحکام سے دونوں ممالک دنیا میں جنگ، بدامنی،  اور غربت کا راستہ روک سکتے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں زبردست پیش قدمی سے ترقی پذیر ملکوں کے لیے پاک تاجک تعلقات مثالی ترقی، مشترکہ مفادات کی تکمیل اور خطے میں خوشحالی کے غیر معمولی سنگ میل قائم کر سکتے ہیں۔۔دونوں ممالک محض 16 کلومیٹر (10 میل) کی دوری پر واقع ہیں۔ واخان راہداری شمال مشرقی افغانستان میں ایک تنگ خطہ ہے، جو چین تک پھیلا ہوا ہے یہ خطہ تاجکستان کو پاکستان سے الگ کرتا ہے۔ دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات اس وقت قائم ہوئے جب سوویت اتحاد کے خاتمے کے بعد جمہوریہ تاجک آزاد ہوا۔ تجارت اور تعاون دونوں ممالک کے مابین مستقل طور پر فروغ پا رہا ہے۔پاکستان کی طرح تاجکستان نےبھی  عالمی امور، دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کو درپیش دیرینہ ایشوز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور پاک تاجک تعلقات میں یہ شیرینی دو نوں ملکوں کے تاریخی، سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی اساسی بنیاد ہے، پاکستان نے تاجکستان کو وسط ایشیا میں اپنا حلیف، دوست اور معاصرانہ سیاسی وثقافتی رشتوں میں قریبی تعلقات کو اہمیت دی ہے، تاجکستان نے بھی خطے میں پاکستان کی امن کے قیام میں کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔دونوں ملکوں کے مابین باہمی احترام اور خطے میں امن و ترقی کے تناظر میں مشترکہ مفادات کو بڑی قدر و منزلت حاصل رہی ہے، تاجکستان اپنی آبادی، پاکستانی عوام کے ساتھ تاجکستانی عوام کی والہانہ محبت و الفت، تاریخی و ثقافتی رشتے تاریخ پر محیط ہیں، مزید براں صنعتی شعبے، توانائی کے وسائل، تجارتی، تعلیمی، دفاعی اور عالمی امور میں پاک تاجک وژن بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ 

چین، پاکستان اور تاجکستان کے مابین سڑکوں اور ریل ٹریک کا ایسا جال ترتیب دیا جا رہا ہے جو خطے کے تمام ممالک کو ملا کر ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہےپاکستان، تاجکستان کو اپنی سٹریٹجک ڈپتھ (Strategic Depth) پالیسی کے تناظر میں دیکھتا ہے-یہ مثبت منافع (Positive Sum)  پالیسی ہے جِس سے دونوں ممالک فائدہ اٹھائیں گے-اِس پالیسی کے تحت  پاکستان خطے کے دوسرے ممالک سے معاشی، سیاسی اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ پاکستان تاجکستان اور دوسرے اسلامی ممالک سے  پوری دنیا میں امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہتا ہے- وسطی ایشیائی ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں تو پاکستان توانائی کے شعبے میں بحران کا سامنا کر رہا ہے-اس تناظر میں وسطیٰ ایشیائی ممالک خصوصاً تاجکستان کے ساتھ  اچھے تعلقات اس بحران سے احسن انداز میں نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں-بڑھتے زمینی رابطے اور دوسرے منصوبوں کی صورت میں دونوں ممالک آپس میں ایک دوسرے سے مختلف شعبوں میں  فائدے اٹھا سکتے ہیں- 

یہاں یہ سمجھنا مناسب ہے کہ چین، پاکستان، یا تاجکستان دیگر ممالک کو تنہا نہیں چھوڑ رہے اور اگر وہ چاہیں تو اِن منصوبوں میں شامل ہو  سکتے ہیں کیونکہ یہ پراجیکٹس پورے خطے کے لئے اوپن قرار دیئے گئے ہیں-  اندرونی چیلنجز کے باعث پاکستان حقیقتاً پن بجلی کی وافر صلاحیت ہونے کے باوجود توانائی کے بحران کا شکار ہے- تاجکستان جو وسیع پہاڑی سلاسل جیسی قدرتی نعمت سے مالا مال ہے اور اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے پن بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے ایسے میں توانائی کے شعبہ میں تعاون اہمیت اختیار کر جاتا ہے-دونوں ممالک کے درمیان بجلی سپلائی کا ایک منصوبہ کاسا-1000 (CASA-1000 electricity transmission and trade project) طے پایا ہے-اِس منصوبے کے تحت تاجکستان اور پاکستان کے درمیان  بجلی کی ترسیل کے لیے لائن بچھانے کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا ہے-یہ منصوبہ پاکستان کو تقریباً 1300میگا واٹ بجلی مہیا کرے گا-اِسی منصوبے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کواِس شعبے میں ٹیکنیکل اور معاشی معاونت بھی فراہم کریں گے-اِس منصوبے نے دونوں ممالک کے لوگوں کو بہت سے مواقع فراہم کیے ہیں جِن سے بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہےتاجکستان نے اقوام متحدہ میں  ایک قرارداد پیش کی کہ سال 2025 کو گلیشیر کے سال کے طور پر منایا جائے جس پر پاکستان نے بھر حمایت کی اور اب آئندہ سال 2025 کو گلیشیر کے سال کے طور پر منایا جائے گا پاکستان میں تاجکستان کے قائم مقام سفیر جناب سعید جان دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے سربراہان مملکت وہ چاہے کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان تعلقات کو بلندیوں تک پہنچایا جائے

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept