پاکستان کے 14ویں صدر کا انتخاب، پولنگ کا آغاز

پاکستان کے 14ویں صدر کا انتخاب، پولنگ کا آغاز

پاکستان کے 14ویں صدر کا انتخاب کرنے کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔

 

صدارتی انتخاب کے لیے ہونے والی پولنگ کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں انتظامات اور تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

 

سینیٹر شیری رحمٰن صدارتی امیدوار آصف زرداری کی پولنگ ایجنٹ مقرر ہیں جبکہ سینیٹر شفیق ترین دوسرے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے پولنگ ایجنٹ مقرر ہیں۔

 

پولنگ شروع ہونے سے قبل پولنگ اسٹیشن میں خالی بیلٹ بکس دکھایا گیا۔

 

حنیف عباسی، سینیٹر عرفان صدیقی، خورشید شاہ، داور کنڈی، مشاہد حسین سید، تاج حیدر، عامر ڈوگر، امیر مقام، بلاول بھٹو اور دیگر ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔

 

اس موقع پر تحریک انصاف کے سینیٹرز بانی پی ٹی آئی کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں پہنچے۔

 

اس سے قبل الیکشن کمیشن کے عملے نے قومی اسمبلی ہال پہنچ کر قومی اسمبلی ہال کو پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کردیا تھا۔

 

قومی اسمبلی میں قائم پولنگ اسٹیشن میں پولنگ سامان پہنچا دیا گیا تھا۔ بیلٹ بکس رکھ کر پولنگ اسٹیشن میں دو پولنگ اسکرینز قائم کی گئی ہیں۔

 

قومی اسمبلی ہال میں ووٹرز کے لیے 2 کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ کاؤنٹر ون پر حرف تہجی اے (A) سے این (N) تک سے نام شروع ہونے والے ووٹرز ووٹ ڈالیں گے۔

 

حرف تہجی او (O) سے زیڈ (Z) تک نام والے ووٹرز کاؤنٹر ٹو پر ووٹ ڈالیں گے۔

 

سندھ اسمبلی کے ایوان کو صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔

 

سیکریٹری اسمبلی کے مطابق سندھ اسمبلی کی عمارت الیکشن کمیشن کے حوالے کردی گئی ہے جہاں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 10 سے شام 4 بجے تک جاری رہے گی۔

 

سندھ اسمبلی میں 2 اعشاریہ 5 نشستوں پر ایک ووٹ گنا جائے گا۔

 

سندھ اسمبلی میں مجموعی طور پر 162 ارکان نے حلف اٹھایا ہے۔ ایوان میں پیپلز پارٹی کے 116، ایم کیو ایم کے 36، جماعت اسلامی کا ایک اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد 9 ارکان ہیں۔

 

صدارتی انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی میں بھی انتظامات کردیے گئے

 

دوسری جانب صدارتی الیکشن کے لیے بیلٹ باکس اور دیگر سامان پنجاب اسمبلی پہنچا دیا گیا۔

 

الیکشن کمیشن کے پولنگ افسر کے فرائض سرانجام دینے والے اہلکار بھی اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔

 

کے پی اسمبلی کے ہال کو پولنگ اسٹیشن کا درجہ دے دیا گیا

 

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ہال کو بھی پولنگ اسٹیشن کا درجہ دیا گیا ہے۔

 

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ محمد ابراہیم پریذائیڈنگ افسر ہوں گے۔

 

خیبرپختونخوا اسمبلی کے 118 ارکان صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ پول کریں گے۔

 

اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے 64 ارکان بھی صدرِ مملکت کے انتخاب کے لیے ووٹ کا استعمال کریں گے جس کے لیے اسمبلی میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept