الیکشن میں دھاندلی، اے این پی کی احتجاجی تحریک شروع

59 / 100

الیکشن میں دھاندلی، اے این پی کی احتجاجی تحریک شروع

انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوابی سے تحریک کا آغاز کردیا ہے، ساری تیاری اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کے لیے ہو رہی ہے اس لیے ہمیں باہر کیا گیا۔

صوابی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ 8 فروری کو اگر کسی کی خواہش تھی کہ ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھ کر کمزور کر لیں گے

یہ غلط سوچ ہے ہم پارلمینٹ سے باہر رہ کر اور بھی مضبوط ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اسمبلی میں رہ کر بہت سی چیزوں کا خیال کرنا پڑتا ہے اب وہ سب چیزیں ختم ہو گئیں اب کھلے عام بات ہوگی۔

حیدر خان ہوتی نے کہا کہ 2024 کے الیکشن نے دھاندلی میں تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹرز ایسے الیکشن کمشنر کو لائے تھے جس کی وجہ سے جیتنے اور ہارنے والے سب احتجاج کر رہے ہیں، اب ایک حلقے سے کام نہیں ہوگا تمام حلقوں کو کھولنا ہوگا۔

رہنما اے این پی نے کہا کہ ہر ووٹ کا بائیو میٹرک چاہتے ہیں تاکہ پتہ چلے کے ووٹ پر انسانوں کے انگھوٹے کا نشان ہے یا خلائی مخلوق کا، ہمیں الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ہے عدلیہ کے ایماندار ججز اور میڈیا کیمروں کے سامنے ووٹ کھولنے چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ الیکشن کا صاف اور شفاف ہونا ضروری ہے تب ملک میں معاشی استحکام آئے گا، آپ لوگوں نے تو ایسا الیکشن کرایا جس میں کوئی حکومت لینے کو تیار نہیں ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی آخری دم تک عوام اور خیبرپختونخوا کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept