سعودی عرب میں مساجد کے اندر افطاری پر پابندی عائد

59 / 100

سعودی عرب میں مساجد کے اندر افطاری پر پابندی عائد

سعودی عرب کی وزارتِ اسلامی امور کی جانب سے رمضان کے دوران مساجد کے اندر افطار پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور نے مساجد کے اندر افطار پر پابندی عائد کرتے ہوئے صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے صحنوں میں افطار کی دعوتیں منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان نے رمضان المبارک سے قبل مساجد میں افطار پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے، یہ پابندی عارضی طور پر 11 مارچ سے شروع ہو کر رواں سال 9 اپریل کو ختم ہو جائے گی۔

 

سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور کی جانب سے 20 فروری 2024ء کو ایک حکم نامے میں مساجد کے ملازمین کے لیے ماہ رمضان کے دوران کام سے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

 

سعودی وزارت نے امام اور مؤذن کو افطار کی دعوتوں کے لیے مالی عطیات جمع کرنے سے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

 

سعودی عرب کی اسلامی امور کی وزارت نے صفائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مساجد کے اندر افطار کی تقاریب کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

 

سعودی وزارت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’مملکت کے مختلف علاقوں میں امام اور مؤذن روزہ داروں اور دیگر افراد کے لیے افطار کے لیے مالی عطیات جمع نہ کریں۔‘

 

نوٹس میں امام و مؤذن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مساجد کے اندر ان دعوتوں کے انعقاد کی نگرانی کریں اور صفائی ستھرائی سے متعلق معاملات پر بھی نظر رکھیں۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی وزارت نے مسجد کے امام و مؤذن کو دعوت ختم ہونے کے فوراً بعد صفائی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept