مخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد

62 / 100

مخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی۔

پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ای سی پی نے مخصوص نشستوں سے متعلق محفوظ فیصلہ سنادیا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اوراقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی حقدار نہیں، مخصوص نشستیں ایوان میں موجود باقی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی، جو لازم تھی۔

ای سی پی کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کا بروقت مخصوص نشستوں کی فہرستیں مہیا نہ کرنا قانونی نقص ہے۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے انتخابی نشان کے باوجود آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا،آئین کےآرٹیکل51میں واضح درج ہےکہ جوسیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں نشستیں جیت کرآئیں گی وہ مخصوص نشستوں کی حقدار ہوں گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ محض سیاسی جماعت میں شمولیت سے مختص نشست پر کوٹہ کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی ترجیحاتی فہرست جمع کرانے میں 2 دن کی توسیع کی تھی۔

ای سی پی کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی جو لازم تھی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرست انتخابات سےق بل فراہم کرنا قانونی ضرورت ہے، سنی اتحاد کونسل کا بروقت مخصوص نشستوں کی فہرستیں مہیا نہ کرنا قانونی نقص ہے۔

ای سی پی کے فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے انتخابی نشان کے باوجود آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا، پارٹی نے تصدیق کی کہ اُن کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل51 میں واضح درج ہےکہ جو سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں نشستیں جیت کرآئیں گی، وہ مخصوص نشستوں کی مستحق ہوں گی۔

الیکشن کمیشن نے 1-4 کے تناسب سے فیصلہ جاری کیا ہے، ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ میں کہا چاروں ممبران سے اتفاق کرتا ہوں کہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں دی جاسکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مخصوص نشستیں باقی سیاسی جماعتوں میں بھی تقسیم نہیں کی جاسکتیں، یہ نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے تحت خالی رکھی جائیں۔

اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 106 واضح ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو حاصل شدہ جنرل نشستوں کےمطابق مخصوص نشستیں ملیں گی۔

بابر حسن بھروانہ کا اختلافی نوٹ میں کہنا تھا کہ نشستیں تب تک خالی رکھی جائیں جب تک آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم نہیں ہوجاتی۔

 

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept