جموں وکشمیر میں ایک اور سرکاری ٹیچر نوکری سے برطرف

56 / 100

جموں وکشمیر میں ایک اور سرکاری ٹیچر نوکری سے برطرف

بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں 57ملازمین برطرف کئے جاچکے ہیں

جموں و کشمیر میں حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 311 کے تحت محکمہ تعلیم کے ایک سرکاری ٹیچر منظور احمد لاوے ضلع کولگام کے رہائشی کو برطرف کر دیا۔ مذکورہ ملازم پربھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس پر آئین کی دفعہ 311 کے تحت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے اب نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق مذکورہ ملازم کی ملک مخالف سرگرمیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نوٹس میں آگئی تھیں۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق مذکورہ ملازم منظور احمد لاوے کے خلاف پولیس اسٹیشن ڈی ایچ پورہ، کولگام میں دو ایف آئی آر درج تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ 9 جولائی 2016 کو ڈی ایچ پورہ کولگام تھانہ پر حملہ کرنے والے لوگوں کے ہجوم کو اکسانے میں وہ شامل تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہجوم کو بھڑکایا تاکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔

پولیس کے مطابق 10 ستمبر 2016 کو ایک اور واقعے میں مذکورہ شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک بے قابو ہجوم کی قیادت کی جس نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ پارٹی پر پتھراؤ کیا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلح بندوق برداروں نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آئین ہند کی دفعہ 311 کے تحت ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں 56 سرکاری افسران و ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جا چکا ہے

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept