آزاد کشمیر کی سب سے بڑی ٹیکس چوری پکڑی گئی

54 / 100

میرپور (بیورورپورٹ)آزاد جموں وکشمیر کے موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمد نور نے کہا ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی، ٹیکس چوری، ہر قسم کے مافیا کا خاتمہ گڈ گورننس اور عام آدمی کے لیے ہرممکن ریلیف وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق اور اتحادی حکومت کا بنیادی منشور ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آج اتحادی حکومت نے آزاد کشمیر کی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس چوری پکڑی جب بھمبر میں پولیس اور دیگر حکام نے 1ارب گیارہ کروڑ مالیت کا سیگریٹ بنانے والا خام مال پکڑا جس سے 7 ارب  کے سیگریٹ بنائے جا سکتے تھے، میرپور میں کے ایف سی واقعہ میں گھیراؤ جلاؤ کرنے والوں اور قانون ہاتھ میں لینے والے شرپسندوں کو آئنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ کسی بے گناہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی لیکن تشدد کرنے والوں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔ غیرقانونی سرگرمیوں کے بارے میں قانونی کارروائی رکے گی نہیں۔ وزیر اعظم چوہدری انوار الحق ان تمام واقعات کی خود مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ ہم ریاست میں سگریٹ، آٹا، ٹمبر، ٹیکس چوری سمیت کسی بھی مافیا کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کا قانونی طریقہ سے قلع قمع کرکے چھوڑیں گے۔وہ یہاں کمشنر آفس میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر کمشنر چوہدری شوکت علی،کمشنر ان لینڈ ریونیو اشتیاق احمد،ڈی ایس پی چوہدری محمد نصیر بھی موجود تھے۔موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمد نور نے کہا کہ جب سے چوہدری انوار الحق کی قیادت میں اتحادی حکومت کا قیام عمل میں آیا ریاست کے اندر آٹا، سگریٹ، ٹمبر، ٹیکس چور اور اس طرح کے دیگر قانون شکن عناصر مافیا کی شکل میں ریاست کے لیے چیلنج بن گئے۔ یہ لوگ مسلسل ریاست کے مفادات کے خلاف کام کررہے تھے۔ وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے حلف اٹھاتے ہی اعلان کیا تھا کہ ریاست میں ٹیکس چوری لاقانونیت یا کسی بھی قسم کے بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاست کے اندر میرٹ پر تقریاں کیں ایماندار افسران کو تعینات کیا جس کے باعث بھمبرپولیس نے  نیشنل ٹبیکو کمپنی کے 8 گودام پر چھاپے مارے جہاں سے ایک ارب گیارہ کروڑ روپے کا غیرقانونی بغیر دستاویزات کے سیگریٹوں کا خام مال پکڑا جس سے سات ارب کے غیر قانونی سیگریٹ تیار ہونا تھے۔ موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار نور نے کہا کہ مافیا کے خلاف اتنی بڑی کارروائی کی اس سے پہلے کسی میں ہمت نہیں ہوئی۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق اور ان کی اتحادی حکومت ریاست سے ٹیکس چوری کے خاتمہ کے لئے مکمل طور پرعزم ہے اور کسی لالچ، کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیگریٹ کی 12فیکٹریاں ہیں جن میں سے ایک مظفرآباد ایک میرپور اور10 بھمبر میں ہیں۔ ہم سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم فیکٹری مالکان کو بھی چاہیے کہ وہ ریاستی اور ملکی قانون کی پاسداری کریں حکومت ٹیکس چوری یا دیگر غیر قانونی اقدامات ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ ہماری کارروائی کسی فرد واحد کے خلاف نہیں ہے ہم ریاستی اور ملکی قانون کی پاسداری کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ موسٹ سینئر وزیر نے کہا کہ اتحادی حکومت کے تمام اقدامات قانون کے دائرے کے اندر ہیں۔ جب سے موجودہ اتحادی حکومت کا قیام عمل میں آیا ریاست میں سرگرم غیرقانونی مافیا نے گٹھ جوڑ کر کے حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر ممکن سازش کی۔ انہوں نے منتخب حکومت کے خلاف بیانیہ بھی بنانے کی کوشش کی۔ ایک مافیا تو عوام میں جا کر انہیں تاریخیں بھی دینے لگا۔ لیکن الحمد اللہ وہ ہر جگہ سے نامراد ہوئے اور ان کی ہر جگہ چوری پکڑی گئی۔ نیلم بھمبر سے ٹمبر مافیا کے ٹرک پکڑے گئے۔ مختصر دورانیہ میں دو مختلف وارداتوں میں سیگریٹ کے 204غیرقانونی کارٹن بھی ضبط کیے گے۔ مافیا جو بھی کرلے ہم غیر قانونی اقدامات ٹیکس چوری اور مافیا کا گٹھ جوڑ ختم کر کے چھوڑیں گے۔ مافیا سے متعلق افراد کے اثاثوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے غیرقانونی اثاثہ جات رکھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمدنور نے کہاکہ گزشتہ روزKFC کا جو واقعہ ہوا اس کی اہل میرپور، سیاسی،مذہبی جماعتوں ،چیمبر آف کامرس نے یکجا ہو کر اس واقعہ کی مذ مت کی اور اس پر اپنے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ میرپور اور آزاد جموں و کشمیر کے پرامن خطہ کے لیے بدنما دھبہ ہے۔ ہمارے ادارے اس پر کام کررہے ہیں۔ ہم نے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں۔ جن کے پاس تصاویر،ویڈیو فوٹیج، آڈیو کلیپس،فیس بک سمیت دیگر ثبوت ہیں۔ واقعہ میں ملوث افراد کی بڑی تعداد پکڑ لی ہے۔ انہوں نے کہا آزاد کشمیر میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ امن و امان اور ریاست کی ترقی کے خلاف کی گئی ہر کارروائی کو آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ عوام مطمئن رہیں کسی بے گناہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ غفلت کے ارتکاب کا بھی جائزہ لیا جا رہے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔

 

 

 

 

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept