6ججز کاخط، از خودنوٹس کیس، عدالتوں کو مچھلی منڈی نہ بنائیں، چیف جسٹس 

65 / 100

 6ججز کاخط، از خودنوٹس کیس، عدالتوں کو مچھلی منڈی نہ بنائیں، چیف جسٹس

 

اسلام آبادہائیکورٹ کے 6ججز کاخط،سپریم کورٹ میں ازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ عدالتوں کو مچھلی منڈی نہ بنائیں۔

 

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہاہے،بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی،جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں

 

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیر اعظم سے ہم نے ملاقات ایگزیکٹو معاملہ پر کی،وزیر اعظم کو جب بتایا تو انھوں نے کہا فوری ملاقات کرتے ہیں،وکلا کہتے ہیں سوموٹو لے لو، پھر وکلا کو وکالت چھوڑ دینی چاہیے،چیف جسٹس کا حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو وکلا نمائندے کے طور پر نہیں لے سکتا، وکلا کے نمائندے کے طور پر بار کے صدر موجود ہیں۔

 

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو فل کورٹ کے بعد جاری پریس ریلیز پڑھنے کی ہدایت کردی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم شاید پروپیگنڈا میں گوئبلز کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں پریس ریلیز پڑھ کر سنائی ۔

 

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت سپریم کورٹ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم شاید پروپیگنڈا میں گوئبلز کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں،پہلے جو طرز عمل تھا چیمبر میں آگئے کیس لگ گیا اب وہ ختم کر دیا،ہم دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں پہلے خود پر اٹھانی چاہیے،درخواست دائر ہونے سے پہلے اخبار میں چھپ جاتی ہے، کیا یہ بھی پریشر ڈالنے کا طریقہ ہے؟میں تو پریشر نہیں لیتا،فیصلوں سے دیکھنا چاہیے پریشر تھا یا نہیں۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق خط لکھا تھا،خط کے بعد حکومت نے ایک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا،انکوائری کمیشن کی سربراہی سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کو دی گئی تھی۔تصدق جیلانی نے حکومت کو خط لکھ کر کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرلی تھی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept