ووٹوں کی خریدوفروخت پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں صلح

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 میں ووٹوں کی خرید وفروخت کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے صلح کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف شکایتیں واپس لے لیں۔

الیکشن کمیشن کے نوٹس پر دونوں پارٹیوں کے وکلاء ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر پی پی 160 عمرمقبول کے روبرو پیش ہوئے۔

وکیل عطا تارڑ ناصر چوہان نے بتایا کہ دونوں پارٹیوں کے شکایت کنندہ نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کے دفتر میں معاملات طے کئے اور الیکشن کمیشن کو فیصلے سے آگاہ کر دیا، دونوں پارٹیوں نے ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے کی شرط پر شکایات واپس لیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر ووٹوں کی خریدو فرخت کا الزام عائد کیا تھا۔

پیپلزپارٹی نے ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ پرالیکشن آفس پر دھاوا بولنے اور کارکنوں کے اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی اسمبلی کےحلقہ این اے127 لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کے رہنما عطاتارڑ مدمقابل ہیں۔

عطا تارڑ نے مبینہ طور پر اپنے سپورٹرز کے ہمراہ پیپلزپارٹی کے امیدوار صوبائی اسمبلی میاں مصباح الرحمان کے الیکشن آفس پر دھاوا بولا اور پیپلزپارٹی کے دو کارکنوں کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار پی پی 161 میاں مصباح الرحمان نے تھانہ کوٹ لکھپت میں عطا تارڑ کے خلاف واقعہ کے مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست جمع کرائی تھی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept