مولانا فضل الرحمان نے ملک گیر تحریک کا اعلان کردیا

57 / 100

مولانا فضل الرحمان نے ملک گیر تحریک کا اعلان کردیا
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے ملک گیر تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، لگتا ہے کہ اب فیصلے میدان میں ہوں گے۔ سربراہ جے یو آئی نے ن لیگ کو بھی اپوزیشن میں بیٹھنےکی دعوت دی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے انتخابی نتائج مسترد کردیئے، دھاندلی نے 2018 کی دھاندلی کا ریکارڈ بھی توڑدیا، ہماری نظر میں پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ ہم سڑکوں پر رہ کرعوام کا مقدمہ لڑیں گے، جے یوآئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی، پارٹی کی شکست سازش کےتحت کی گئی۔

فضل الرحمان نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے لیکن کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح گروپوں کا ہولڈ تھا، جہاں ان کا ہولڈ تھا وہاں پولیس کو اٹھا لیا گیا، چار پانچ دیہات سے پولیس کو اٹھایا گیا، تین روز تک یرغمال رکھا گیا، دھمکیاں دی گئیں کہ اگر جمعیت کے لوگوں کو قتل کریں گے اگر وہ پولنگ اسٹیشن پر آئے، اس قسم کے حالات میں ہم نے الیکشن میں حصہ لیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ذرا کچھ اور تیور کے ساتھ فیصلے کیے ہیں آپ نارمل انداز میں سوال کر رہے ہیں‘۔

فضل الرحمان نے ن لیگ کو بھی اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنےکی دعوت دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے اسرائیل کی مخالفت کی اور حماس کی حمایت کی، جے یوآئی ایک نظریاتی قوت ہے، ہم کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی قوتوں کی ایما پر جے یو آئی کو شکست سے دوچار کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے تو پھر 9 مئی کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے الیکشن درست ہے تو قوم نےغداروں کو ووٹ دیا ہے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ہمارے لوگوں کی درخواستوں کی سماعت نہیں کررہا، الیکشن کمیشن کا کردار روز اول سے مشکوک رہا ہے۔

’ملک میں تحریک چلائیں گے‘
ان کا کہنا تھا کہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ملک میں تحریک چلائیں گے، 22 فروری کو اسلام آباد جنرل کونسل، 25 فروری بلوچستان میں صوبائی جنرل کونسل، 27 کو خیبرپختونخوا پشاور، 3 مارچ کو کراچی میں جنرل کونسل اور پانچ مارچ کو لاہور میں جنرل کونسل کا اجلاس ہوگا۔

بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے حکومت سازی کے حوالے سے کوئی اجازت نہیں دی، جنرل کونسل سے بات کریں گے۔

کیا افغانستان کا دورہ آپ کے خلاف گیا، اس حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تبصرے یہی آ رہے ہیں کہ بین الاقوامی طور پر اسے جرم قرار دیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی اسلام دشمن عالمی قوتوں کے ایما پر ہوئی ہے، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں امارات اسلامیہ کے استحکام اور پاکستان اور افغانستان کے پرامن تعلقات کے لیے کردار ادا کیا ہے جو امریکہ اور مغربی دنیا کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کیخلاف فلسطینیوں اور حماس کے موقف کی حمایت کی ہے۔

شہباز شریف کو ووٹ دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے اتحادی نہیں ہیں، ہم پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردارادا کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’انہوں‘ نے ہماری بات نہیں سنی اب ہم ان کی نہیں سنیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک کے شیڈول اور طریقہ کار کے بارے میں اعلان وہ پارٹی کی مشاورت سے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ میری گفتگو ایک دو نشستوں کے حوالے سے نہیں، مجموعی سطح پر بات کروں گا۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پشاور میں ایک افغان نیشنل جو چوتھے پانچویں نمبر پر تھا اسے جتوا دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اسٹیبشلمنٹ سیاست سے دستبردار ہو جائے تو سر آنکھوں پر، سیاست کریں گے تو سیاست میں جواب دینگے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی کے تابعدار نہیں، جب کہ پی ٹی آئی سے اختلاف جسموں کا نہیں، ذہنوں کا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept