وزیراعظم آزاد کشمیر کا بروقت ایکشن ریاست کے اربوں روپے بچا لیے،ٹاپ بیوروکریسی کی سازش ناکام، قیمتی پتھروں کی لیز پر بڑا فراڈ بے نقاب

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ریاست آزاد جموں و کشمیر میں اربوں روپے کے قیمتی معدنی وسائل کو کوڑیوں کے مول بیچنے کی خوفناک کوشش وزیراعظم کے بروقت اقدام سے ناکام بنا دی گئی۔ اعلیٰ بیوروکریسی اور محکمہ معدنی وسائل کے بعض بااثر افراد کی ملی بھگت سے قیمتی پتھروں (روبی،یاقوت، نیلم، زمرد) کی نکاسی کے حوالے سے پی کے ایم آر پرائیویٹ لمیٹڈ نامی مشکوک کمپنی کو لیز کی توسیع دینے کی سازش آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھی۔

مگر وزیراعظم آزاد کشمیر نے نہ صرف فوری ایکشن لیا بلکہ فوری فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچا لیا۔ذرائع کے مطابق محکمہ AKMIDC (آزاد کشمیر منرل اینڈ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن) نے "پی کے ایم آر پرائیویٹ لمیٹڈ” کے ساتھ قیمتی پتھروں کی نکاسی کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ (Joint Venture) کیا تھا۔ ابتدائی معاہدے کے تحت فرم نے محکمہ کو ناقابل واپسی 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کی، تاہم کمپنی نے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔محکمہ معدنی وسائل نے بارہا کمپنی کو یاد دہانی کرائی، خط و کتابت کے سلسلے جاری رہے، مگر کمپنی اپنی ضد اور بے حسی پر قائم رہی۔ نتیجتاً کمپنی کو 52 کروڑ روپے کا پہلا نوٹس جاری کیا گیا، اور بعد ازاں دوسرا نوٹس بھی کروڑوں روپے کا جاری ہوا۔ کمپنی کی مسلسل نافرمانی اور معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے ریاستی خزانے کو کم از کم ایک ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا تھا۔باوجود اس سب کے، بیوروکریسی کے ایک طاقتور گروہ نے اس کمپنی کو سزا دینے کے بجائے اسے مزید انعام دینے کی تیاری شروع کر دی۔

اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر معدنی وسائل، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام، پی کے ایم آر کو قیمتی پتھروں کی لیز کی توسیع دینے کے لیے دن رات سرگرم تھے، حتیٰ کہ اس "ڈیل” کا تقریباً 70 فیصد ورک مکمل کیا جا چکا تھا۔ وزیراعظم کے نوٹس سے سب کچھ بدل گیاجب یہ معاملہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے علم میں آیا، تو انہوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئےقیمتی پتھروں کی لیز کی توسیع روک دیکمپنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کا امکانسیکرٹری معدنی وسائل خالد مرزا کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیااور بیوروکریسی کے اس گروہ کو کھلی وارننگ دے دی اے کے ایم آئی ڈی سی کا خاتمہ کیوں ہوا؟قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس اسکینڈل نے ہی AKMIDC جیسے اہم ادارے کے خاتمے کی بنیاد ڈالی۔ جب ادارے کو پی کے ایم آر کے ساتھ ڈیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تو حکومت نے AKMIDC کو تحلیل کر کے محکمہ معدنی وسائل میں ضم کر دیا۔ اس کے بعد تمام نئی لیزز قانون کے مطابق صرف اوپن بولی کے تحت دی جا سکتی ہیں۔

جس سے کرپشن کے راستے مسدود ہو گئے۔ پی کے ایم آر کمپنی کو معاہدے کی خلاف ورزی پربجائے اس کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جاتا، بیوروکریسی کا مخصوص گروہ اسے "انعام” دینے کے لیے کوشاں رہا، قیمتی پتھروں کی نئی لیزز کے ذریعے۔ مگر وزیراعظم نے ان تمام کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ ریاستی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو معافی نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم آزاد کشمیر کے بروقت اور دلیرانہ اقدام نے نہ صرف ریاستی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا، بلکہ کرپشن میں ملوث بیوروکریسی کو بھی واضح پیغام دے دیا کہ ریاست اب ان سازشوں کے آگے جھکنے والی نہیں۔

اس فیصلے نے عوام کے اعتماد کو بحال کیا ہے اور ثابت کر دیا کہ اگر قیادت نیک نیت ہو، تو بڑی سے بڑی سازش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رے کہ یہ وہی کمپنی ہے جس کو کوئلہ لیز کی توسیع وزیر اعظم آزاد کشمیر نے نہیں دی، اور ٹاپ بیوروکریسی ناجانے کیوں اسی فرم کو قمیتی پتھروں کی لیز دینے کے لیے تلی ہوئی تھی، جس کے حقائق رفتہ رفتہ کھل رے ہیں۔

مزید پڑہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button