سردار غلام مصطفیٰ ایڈوکیٹ کی اس جان فانی سے اچانک رخصتی

تحریر: چوہدری محمد الیاس ایڈوکیٹ، سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر
زندگی کبھی کبھی انسان پر ایسے وار کرتی ہے کہ سانس سنبھالنے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔ کل ہی میں آزاد کشمیر کی سیاست کے ایک بڑے نام، صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو میرپور میں سپردِ خاک کر کے لوٹا تھا۔
جب ان کا جسدِ خاکی میرپور پہنچا تو ہزاروں افراد اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں الوداع کہنے موجود تھے۔ فضا سوگوار تھی اور ہر دل غم سے بوجھل۔ واپس اپنے آبائی شہر پہنچا ہی تھا کہ اگلی صبح دفتر روانگی کے وقت ایک اور دل دہلا دینے والی خبر نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اطلاع ملی کہ سردار غلام مصطفیٰ ایڈوکیٹ، ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹلی میں اس عارضی دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے غم نے وقفہ دیے بغیر ایک اور چراغ بجھا دیا ہو۔
سردار غلام مصطفیٰ آج صبح معمول کے مطابق بیدار ہوئے۔ فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد گئے، ختمِ خواجگان میں شرکت کی اور واپس گھر لوٹے۔ گھر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد طبیعت بگڑی، اہلِ خانہ فوراً انہیں ڈسٹرکٹ ہسپتال لے گئے۔
مگر چند لمحوں بعد ڈاکٹر نے نبض سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے یہ خبر دی کہ وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ خبر سن کر ہر دل اداس اور ہر آنکھ نم ہو گئی۔
سردار غلام مصطفیٰ کا تعلق ایک پسماندہ اور غریب گھرانے سے تھا۔ انہوں نے زندگی کا آغاز مشکلات کے درمیان کیا مگر کبھی مایوسی یا کم ہمتی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، جہاں جوانی کے قیمتی سال گزارے۔
اسی دوران اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بھی جِلا بخشی۔ قانون سے لگاؤ نے انہیں وکالت کے شعبے کی طرف مائل کیا اور بالآخر 1987ء میں وہ باقاعدہ طور پر بار کے رکن بن گئے۔ وکالت کے میدان میں ان کی پہچان ان کی جرأت، صاف گوئی اور غیرمعمولی اعتماد تھا۔
وہ تنِ تنہا اپنی آواز بلند کرنے اور جوڈیشل افسران کو متوجہ کر لینے کا ہنر رکھتے تھے۔ بار میں آئے تو اپنی الگ شناخت کے ساتھ آئے۔ کسی تقریب یا اجلاس میں کھڑے ہوتے تو مصلحت کو خاطر میں نہ لاتے اور جو دل میں ہوتا بلا جھجھک بیان کر دیتے۔
ان کی ڈرافٹنگ روایتی نہ تھی۔ وہ قانونی معاملات میں نئے زاویے اور منفرد نکات تلاش کرتے اور پیچیدہ سے پیچیدہ کیس کو لمحوں میں سلجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وکلا برادری میں ان پر اعتماد کیا جاتا تھا اور مخالفین بھی ان کی قانونی بصیرت کے معترف تھے۔
سردار غلام مصطفیٰ نے نہ صرف وکالت بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے، آزاد جموں و کشمیر بار کونسل تک پہنچے اور ایک مرتبہ ڈسٹرکٹ بار کوٹلی کے صدر منتخب ہوئے۔
ان کی شخصیت میں سنجیدگی، دوراندیشی اور اصول پسندی ہمیشہ نمایاں رہی۔ بسا اوقات ان کی صاف گوئی سے اپنے بھی ناراض ہوئے اور غیر بھی، مگر وہ حق گوئی سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔
زندگی کے آخری دور میں انہوں نے روحانیت کا راستہ اختیار کیا اور درس شریف آگر سے وابستہ ہو گئے۔ ان کے شب و روز آگر شریف کی مسجد کے احاطے میں گزرتے تھے اور وہ ان خوش نصیب افراد میں شامل ہو گئے جو اس روحانی سلسلے سے فیضیاب ہوئے۔
دو فروری کی صبح سورج تو طلوع ہوا، مگر سردار غلام مصطفیٰ کی زندگی نے مزید وفا نہ کی۔ خبر پھیلتے ہی وکلا، احباب اور اہلِ علاقہ اشکبار آنکھوں اور بوجھل دلوں کے ساتھ ان کے گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔
آج ایک ایسا شخص ہم سے جدا ہو گیا جس کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔
بقول شاعر:
زندگی موت سے کتنا ہی لڑے
جیت تو آخر موت کی ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ سردار غلام مصطفیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔ آمین।


