اے آئی چیٹ بوٹس لوگوں کی ذہانت میں کمی لانے کا باعث بن رہے ہیں، تحقیق

اے آئی چیٹ بوٹس پر زیادہ انحصار سے علم محدود ہونے کا خدشہ

کوپن ہیگن: ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس پر مسلسل انحصار لوگوں تک پہنچنے والی معلومات کے تنوع کو محدود کرسکتا ہے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کی تحقیق میں 27 مختلف بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) کا جائزہ لیا گیا، جس میں 155 موضوعات پر اے آئی چیٹ بوٹس کے جوابات کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانے والے اے آئی چیٹ بوٹ کے جوابات میں گوگل سرچ کے مقابلے میں معلومات کا تنوع 19 فیصد تک کم پایا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ چیٹ بوٹس بعض موضوعات پر بار بار ملتی جلتی معلومات اور خیالات فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران محققین نے 200 تحریری ہدایات کے ذریعے اے آئی ماڈلز سے 7 کروڑ سے زائد جوابات حاصل کیے۔ نتائج کے مطابق جی پی ٹی-5 کے جوابات میں دیگر ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ تنوع پایا گیا، تاہم گوگل سرچ کے مقابلے میں یہ تنوع پھر بھی 18.5 فیصد کم تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ معلومات کے حصول کیلئے بار بار ایک ہی طرح کے اے آئی جوابات پر انحصار کریں تو اس سے دستیاب معلومات کے دائرے میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم تحقیق کے نتائج اے آئی کے استعمال سے براہِ راست انسانی ذہانت میں کمی ثابت نہیں کرتے بلکہ معلومات کے تنوع اور علم کے حصول کے طریقوں سے متعلق خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزید پڑہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button