اس پھل کو آخر جاپانی پھل کیوں کہا جاتا ہے؟ صحت کیلئے اس کے فوائد بھی جانیں

اسلام آباد: موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ بازاروں میں املوک، جسے عام طور پر جاپانی پھل یا پرسیمون کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں دستیاب ہوتا ہے۔ یہ پھل تاریخی طور پر چین سے تعلق رکھتا ہے اور وہاں اسے تقریباً 2 ہزار سال سے کاشت کیا جا رہا ہے، تاہم جاپان میں اس کی ایک قسم Diospyros kaki زیادہ مقبول ہونے کے باعث کئی ممالک میں اسے جاپانی پھل کہا جاتا ہے۔
جاپانی پھل غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے۔ ایک پھل میں تقریباً 120 کیلوریز، 32 گرام کاربوہائیڈریٹس، ایک گرام پروٹین اور تقریباً 6 گرام فائبر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مختلف وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی موجود ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق املوک میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے، سی اور ای سمیت دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو آکسیڈیٹو اسٹریس سے تحفظ دینے میں مددگار ہوتے ہیں۔ فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے، قبض سے بچاؤ اور پیٹ بھرنے کے احساس میں مدد دیتا ہے۔
اس پھل میں موجود فلیونوئڈز اور فولیٹ دل کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
جاپانی پھل میں میگنیشیم، فاسفورس اور بی وٹامنز جیسے غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں جو ہڈیوں، اعصابی نظام اور جسم کے مختلف افعال کے لیے اہم ہیں۔ تاہم کسی بھی غذائی چیز کو بیماری کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے اور مخصوص طبی مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔



