مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی کے موضوع پر اجلاس ہوا، جس میں پاکستان نے بھی شرکت کی۔
اسحاق ڈار نے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول برقرار رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی شعبے میں غلط اندازوں اور مختصر وقت میں فیصلوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے احتیاط اور اعتماد سازی ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے نام پر ٹیکنالوجی تک رسائی محدود نہیں ہونی چاہیے، جبکہ اے آئی کی حکمرانی کے لیے اقوام متحدہ کے تحت جامع اور نمائندہ فورمز ضروری ہیں۔
اسحاق ڈار نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے پہلے گلوبل ڈائیلاگ آن اے آئی گورننس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت کے تعاون اور اے آئی کی تقسیم ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے، جبکہ پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم، WAICO کا بانی رکن بھی ہے۔


