آٹے کی قیمت میں اضافہ، کراچی، پشاور اور اسلام آباد کے شہری سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

مہنگائی کا نیا وار، ہفتے میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے تک مہنگا، سالانہ شرح 11.97 فیصد ہوگئی
ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی 0.57 فیصد بڑھ گئی جبکہ سالانہ شرح 11.97 فیصد تک پہنچ گئی۔ آٹے، مرغی، دالوں، ٹماٹر اور پیٹرول سمیت متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 6 کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ 25 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ آٹے کی قیمت میں 5.69 فیصد، مرغی میں 4.93 فیصد، دال چنا میں 3.99 فیصد اور ٹماٹر میں 2.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پیٹرول، دال مسور، چائے اور ایل پی جی بھی مہنگی ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں آٹے کا تھیلا 3400 روپے تک پہنچ گیا، جبکہ راولپنڈی میں قیمت 347 روپے اضافے کے بعد 3333 روپے اور سیالکوٹ میں 333 روپے اضافے کے بعد 3133 روپے ہوگئی۔
اسی طرح سکھر میں آٹے کا 20 کلو تھیلا 300 روپے مہنگا ہوکر 3060 روپے، حیدرآباد میں 200 روپے اضافے کے بعد 3200 روپے، کوئٹہ میں 70 روپے اضافے کے بعد 3030 روپے اور ملتان میں 66 روپے اضافے کے بعد 2866 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ لاہور میں آٹے کے تھیلے کی قیمت 2300 روپے جبکہ فیصل آباد میں 2200 روپے برقرار رہی۔
دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران کیلے کی قیمت میں 2.81 فیصد، ڈیزل میں 1.37 فیصد، آلو میں 0.89 فیصد اور چینی میں 0.37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر بھی کئی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پیاز 100.24 فیصد، ایل پی جی 68.55 فیصد، بجلی کے چارجز 58.59 فیصد، پیٹرول 47.52 فیصد اور ڈیزل 42.52 فیصد مہنگا ہوا۔ گندم کا آٹا بھی ایک سال میں 32.60 فیصد مہنگا ہوگیا۔
تاہم سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 39.51 فیصد، ٹماٹر میں 37.07 فیصد، چینی میں 22.44 فیصد اور انڈوں میں 18.88 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے، جبکہ آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوامی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔



