کے پی میں علیحدہ سکیورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں، وفاق کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام

پی ٹی آئی کو واضح پیغام، قومی سکیورٹی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا
اسلام آباد: وفاقی حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے الگ سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی۔
باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کو بیرونی جارحیت سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان مخالف حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے مطابق قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی وفاقی سطح پر عسکری و دفاعی اداروں کی مشاورت سے طے ہوگی، جبکہ صوبائی حکومتوں سے اس پر مکمل عملدرآمد اور سکیورٹی اداروں سے تعاون کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو یہ بھی پیغام دیا گیا ہے کہ مرکز اور صوبے کے سیاسی اختلافات کو دہشت گردی کے خلاف ریاستی ردعمل پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جا سکتا اور قومی سلامتی کے معاملے میں حتمی پالیسی وفاق کے دائرہ اختیار میں رہے گی۔



