مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے، ناراض رہنماؤں کےحامی میدان میں آگئے

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات کے دوران ممبر کشمیر کونسل چوہدری سعید کی کارکردگی اور پارٹی سے وفاداری پر سوالات اٹھا دیے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں انتخابی شکست اور ناراض رہنماؤں کو منانے میں مبینہ ناکامی سے متعلق چار اہم سوالات سامنے رکھے گئے ہیں۔
پوسٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر اعجاز رضا، ملک سہیل، تسلیم انجم، نعمت شہزاد اور مزمل گجر کی ناراضی انتخابی شکست کا سبب بنی تو انتخابات سے قبل انہیں راضی کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ اس کے علاوہ پارلیمانی بورڈ کے سامنے تحفظات بروقت پیش نہ کرنے اور متبادل ووٹ بینک کے انتظام سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز 1-F پر گزشتہ انتخابات میں 800 سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی تھی، جو اس مرتبہ کم ہو کر نصف سے بھی کم رہ گئی۔ ان سوالات کو چوہدری سعید کی انتخابی حکمت عملی اور پارٹی سے وابستگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
تاہم یہ نکات سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اعتراضات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ چوہدری سعید کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے۔


