مالیاتی اداروں اور اہم انفرااسٹرکچر پر اے آئی کے ذریعے سائبرحملوں کا خطرہ، ایڈوائزری جاری

بینکوں اور اہم تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، قومی سائبر ایمرجنسی ٹیم کی ایڈوائزری جاری
اسلام آباد: مالیاتی اداروں اور اہم قومی انفرااسٹرکچر پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے سائبر حملوں کے خطرات میں اضافے کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے نئی ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق بینکوں کے کور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، تیل و گیس کی تنصیبات، بجلی کے نیٹ ورکس، واٹر یوٹیلیٹیز، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کے نظام سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بینکوں کے ادائیگی کے نظام، اے پی آئیز اور صارفین کی ایپلی کیشنز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
ایڈوائزری میں اداروں کو مشکوک لاگ اِن کوششوں، غیر معمولی لین دین، اے پی آئی ریکویسٹس اور ایپلی کیشنز کی کنفیگریشن میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نگرانی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں کور بینکنگ ریکارڈ اور صارفین کی ایپلی کیشنز کی درستگی یقینی بنانے، لین دین کی آزادانہ جانچ اور خودکار اے آئی سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔



