امریکی بحریہ کے زیر قبضہ تیل سے بھرے 3 ایرانی بحری جہاز امریکا روانہ: ٹریکنگ ڈیٹا

امریکا کی جانب سے قبضے میں لیے گئے 3 ایرانی آئل ٹینکرز جن پر تقریباً 60 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے امریکا کی جانب رواں دواں ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اگرچہ ان جہازوں کے ٹرانسپونڈرز پر ان کی منزل درج نہیں ہے تاہم بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘ٹینکر ٹریکرز’ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’پر بتایا کہ یہ ٹینکرز امریکا کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ ’تقریباً 60 کروڑ ڈالر مالیت کا قبضے میں لیا گیا 60 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خاموشی سے بحر اوقیانوس عبور کر کے امریکا کی طرف جا رہا ہے‘۔

میری ٹائم پلیٹ فارم ‘کپلر’ کے ڈیٹا کے مطابق ان میں سے ایک ٹینکر ‘مجیسٹک ایکس’ نے ملائیشیا کے قریب سمندر سے بحر اوقیانوس کی جانب سفر شروع کرتے ہوئے 31 جولائی سے 2 اگست تک مختصر وقت کے لیے اپنی منزل امریکا ظاہر کی تھی۔

واضح رہے کہ ان تینوں ٹینکرز پر ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کے امریکی پروگرامز کے تحت پابندیاں عائد ہیں۔

یہ ٹینکرز اس وقت قبضے میں لیے گئے تھے جب امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی۔

کپلر ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو ٹینکرز ‘مجیسٹک ایکس’ اور ‘ٹفانی’ اس وقت برازیل کے شمالی ساحل کے قریب موجود ہیں، ان دونوں جہازوں کو ایران سے تیل لوڈ کرنے کے بعد اپریل میں امریکا نے قبضے میں لیا تھا اور اُس وقت ان کے ٹرانسپونڈرز پر ان کی منزل بالترتیب چین اور سنگاپور درج تھی۔

کپلر کے جی پی ایس ٹریک کے مطابق، تیسرا ٹینکر ‘لینور’ منگل کے روز جنوبی افریقا کے قریب سے گزر کر بحر اوقیانوس میں داخل ہوا، اس سپر ٹینکر کو جون کے اوائل میں بحر ہند سے قبضے میں لیا گیا تھا اور اُس وقت اس کی منزل نامعلوم تھی۔

مزید پڑہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button