وہم ہے یا بیماری : خواتین کی تکالیف کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟

خواتین کی جسمانی تکالیف کو ذہنی دباؤ یا وہم قرار دے کر نظر انداز کرنا اور بیماریوں کی تشخیص میں تاخیر ایک اہم طبی مسئلہ بن چکا ہے۔ طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو میڈیکل گیس لائٹنگ کہا جاتا ہے، جس میں مریض کی حقیقی علامات کو مناسب توجہ نہیں دی جاتی یا انہیں نفسیاتی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایک تحقیق کے مطابق خودکار مدافعتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اپنی علامات کی غلط تشخیص یا تشخیص میں تاخیر کا زیادہ سامنا ہوسکتا ہے۔ خودکار مدافعتی بیماریوں میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند خلیوں اور بافتوں پر حملہ کرنے لگتا ہے۔ ان بیماریوں کی ممکنہ علامات میں مسلسل تھکن، جوڑوں کا درد، جسمانی کمزوری اور جلد پر دانے یا دیگر تبدیلیاں شامل ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین میں نفسیاتی تشخیص کا امکان 46 فیصد جبکہ ان کی جسمانی علامات کو ذہنی دباؤ یا پریشانی سے منسوب کیے جانے کا امکان 74 فیصد زیادہ پایا گیا۔ ماہرین کے مطابق بعض خواتین کو درست تشخیص کے لیے طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی اور صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خواتین کی مسلسل یا غیر معمولی علامات کو محض وہم یا ذہنی دباؤ قرار دینے کے بجائے سنجیدگی سے لیا جائے اور ضرورت کے مطابق طبی معائنہ کرایا جائے۔ تحقیق کا اہم پیغام یہ ہے کہ ہر جسمانی تکلیف کو نفسیاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بروقت تشخیص اور مناسب علاج مریضوں کی صحت اور معیار زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


