اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری، نتائج کب آئیں گے اور آگے کیا ہوگا؟

اسرائیل میں اہم انتخابات، نیتن یاہو کو سخت سیاسی چیلنج کا سامنا
اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں عوام ملک کی آئندہ سیاسی سمت کا فیصلہ کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ انتخابی معرکہ وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے اتحاد اور سابق آرمی چیف گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک کے درمیان ہے۔
حتمی انتخابی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 جبکہ اپوزیشن بلاک کو 54 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی، غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی، مبینہ بدعنوانی اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کی فوجی سروس سے متعلق تنازعات پر اندرونِ ملک تنقید کا سامنا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تناؤ بھی انتخابی ماحول پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 31.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1973 کے بعد اس وقت تک کا بلند ترین ٹرن آؤٹ ہے۔
پولنگ ختم ہونے کے بعد ایگزٹ پولز اور ابتدائی نتائج سامنے آئیں گے، جبکہ حتمی نتائج کا اعلان یکم نہیں بلکہ فراہم کردہ متن کے مطابق 4 نومبر کو متوقع ہے۔ اگر کوئی اتحاد 61 نشستیں حاصل نہ کر سکا تو چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے لیے مذاکرات ہوں گے، اور ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی موجود ہوگا۔



