‎پاکستان اور امریکا کیلئے ٹیکنالوجی میں تعاون انتخاب نہیں، ضرورت ہے، رضوان سعید شیخ

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اب انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ ڈیلس کے شہر ارونگ میں پاک یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور امریکی مارکیٹ کی جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع دونوں ممالک کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔ یہ تقریب قونصلیٹ جنرل آف پاکستان ہیوسٹن کے تعاون سے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور اوپن گلوبل کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے امریکی کاروباری نمائندوں کے سامنے اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کیں۔ سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق پاکستان کی سروسز برآمدات کا تقریباً 60 سے 62 فیصد حصہ امریکی مارکیٹ کو جاتا ہے، جبکہ ملک کی 60 سے 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عالمی مارکیٹ سے جوڑ کر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نئے کاروباری مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سی ای او فیصل جیدی نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 24 ہزار کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی گریجویٹس عملی میدان میں آتے ہیں اور پاکستانی کمپنیاں امریکا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف عالمی مارکیٹوں میں خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ تقریب میں شریک ماہرین نے مصنوعی ذہانت، ریموٹ ورکنگ، جدید تکنیکی تربیت اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مقررین کے مطابق پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جدید مہارتوں، بہتر انٹرنیٹ سہولتوں اور عالمی معیار کے مطابق خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔

مزید پڑہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button