ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

راجستھان کا 200 سال پرانا آسیب زدہ گاؤں، ایک رات میں 1500 سے زائد افراد کہاں غائب ہوئے؟

بھارتی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر میں واقع کلدھرا گاؤں آج بھی اپنی ویران گلیوں، خستہ حال مکانات اور خاموش کھنڈرات کے باعث پراسرار مقام سمجھا جاتا ہے۔ گاؤں سے متعلق بھوتوں کی چیخوں، پراسرار قدموں اور رات کے وقت عجیب آوازوں کی کہانیاں کئی دہائیوں سے مقامی سطح پر گردش کر رہی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

روایات کے مطابق کلدھرا کو تیرہویں صدی عیسوی میں پالیوال برہمنوں نے آباد کیا تھا۔ یہ لوگ زراعت، تجارت اور آبپاشی کے حوالے سے مہارت رکھتے تھے اور کلدھرا ایک خوشحال بستی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کے آس پاس پالیوال برہمنوں کی متعدد بستیاں بھی آباد تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ تقریباً دو سو سال قبل کلدھرا اور آس پاس کی بستیوں کے 1500 سے زائد افراد اچانک اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے۔ اگلی صبح بستی میں مکانات اور گھریلو سامان تو موجود تھا، لیکن لوگ غائب تھے۔ اتنی بڑی آبادی کے اچانک انخلا نے اس واقعے کو ایک تاریخی معمہ بنا دیا۔

لوگوں کے اچانک چلے جانے کی وجہ سے متعلق مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض داستانوں میں مقامی حکمران کی جانب سے بھاری ٹیکسوں اور مبینہ دباؤ کا ذکر ملتا ہے، جبکہ ایک مشہور روایت کے مطابق ایک طاقتور شخص کی جانب سے پالیوال برادری پر دباؤ ڈالا گیا، جس کے بعد لوگوں نے بستی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

کلدھرا کے خالی ہونے کے بعد اس سے متعلق ایک اور روایت مشہور ہوئی کہ یہاں سے جانے والوں نے اس مقام کو دوبارہ آباد نہ ہونے دینے کی بددعا کی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ داستانیں ماورائی کہانیوں میں تبدیل ہوگئیں اور کلدھرا کو ایک آسیب زدہ گاؤں کے طور پر شہرت مل گئی۔

آج کلدھرا کے کھنڈرات راجستھان کے معروف تاریخی مقامات میں شمار ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ گاؤں سے متعلق کئی خوفناک اور پراسرار کہانیاں مشہور ہیں، لیکن 1500 سے زائد افراد کے اچانک انخلا کی اصل وجہ اور اس واقعے کی مکمل حقیقت آج بھی تاریخ کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے۔

مزید پڑہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button