غازی راجہ اسماعیل خان، تحریکِ آزادی کشمیر کے عظیم مجاہد معرکۂ نیلہ بٹ سے پونچھ کے محاذ تک بہادری کی لازوال داستان

غازی راجہ اسماعیل خان تحریکِ آزادی کشمیر کے ان مجاہدین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف جدوجہد کی اور جنگِ آزادی کے دوران متعدد معرکوں میں بہادری کے جوہر دکھائے۔ ان کا تعلق ڈھاکہ مندری، تحصیل دھیرکوٹ، ضلع باغ آزاد کشمیر سے تھا اور وہ نارمہ راجپوت قبیلے کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ وہ مہذب، شائستہ، خوش اخلاق اور انصاف پسند انسان تھے۔
جنگِ آزادی سے قبل بھی غازی راجہ اسماعیل خان تحریکِ آزادی کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ وہ احتجاجی جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرتے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق ڈوگرہ حکومت کے خلاف ایک جلوس میں شرکت کے باعث انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جب جلوس راولاکوٹ سے ہوتا ہوا ہجیرہ پہنچا تو شرکاء کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم بعدازاں مولانا عبداللہ کفل گڑھی کی کوششوں سے ان کے مقدمات ختم ہوئے اور انہیں رہائی مل گئی۔
غازی راجہ اسماعیل خان نے معرکہ نیلہ بٹ اور معرکہ نانگاپیر کے بعد تھانہ ہاڑی گہل کی کارروائی میں بھی حصہ لیا۔ ان کے بیان کے مطابق ڈوگرہ فوج کو باغ کی جانب دھکیلنے کے دوران انہوں نے ٹنگیاٹ کے معرکے میں بھی شرکت کی، جبکہ کوٹیرہ مست خان اور چکناڑی کے معرکوں میں ان کی شرکت کا بھی ذکر ملتا ہے۔
غازی راجہ اسماعیل خان کے بیان کے مطابق معرکہ نانگاپیر میں دشمن کی پسپائی کے بعد سردار عبدالقیوم نے مزید تعاقب نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مالِ غنیمت خچروں پر لاد کر غازی آباد روانہ ہوگئے۔ ان کے ساتھ رنگلہ کے محبوب خان سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔ وہ اس جدوجہد میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو خاص اہمیت دیتے تھے۔
معرکہ نانگاپیر اور ٹنگیاٹ کے بعد یونٹ بندی کے دوران غازی راجہ اسماعیل خان فرسٹ باغ بٹالین میں شامل ہوئے اور پونچھ کے محاذ پر روانہ ہوگئے۔ جنگ بندی کے بعد وہ اپنے گھر واپس آگئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا اور تقریباً سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی زندگی تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو آنے والی نسلوں کو جدوجہد، قربانی اور وطن سے وابستگی کی یاد دلاتا ہے۔



