فرانس: عوامی مظاہرے پُر تشدد صورت اختیار کرگئے، مشتعل افراد کی دکانوں میں لوٹ مار، 1800 سے زائد مظاہرین گرفتار

فرانس میں مہنگائی اور عوامی سہولیات کی ابتر صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں نے پُرتشدد صورت اختیار کر لی، جس کے دوران ایک شخص ہلاک، 500 سے زائد پولیس اہلکار زخمی اور تقریباً 1800 افراد گرفتار کر لیے گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، ہفتے کے روز مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مشتعل افراد نے دکانوں میں لوٹ مار کی، سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور جنوب مغربی شہر لیموجز میں 143 سال پرانے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی۔
رپورٹس کے مطابق، پیرس میں پولیس نے 855 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ بورڈو میں تقریباً 100 دکانوں کو لوٹا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیکڑوں کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔
ابتدائی طور پر اسکولوں کی خستہ حالی اور اساتذہ کی کمی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے بعدازاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، عدم مساوات اور عوامی اخراجات میں کٹوتیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہوگئے۔ صورتحال کے پیشِ نظر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے قوم سے خطاب کا اعلان کیا ہے۔



